ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جامعہ ملیہ اسلامیہ میں رات 9 بجے کے بعد گرلس ہاسٹل سے باہر رہنے پر پھر لگی روک

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں رات 9 بجے کے بعد گرلس ہاسٹل سے باہر رہنے پر پھر لگی روک

Tue, 10 Jul 2018 23:19:21    S.O. News Service

نئی دہلی ،10؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جامعہ ملیہ اسلامیہ  نے اس سیشن سے طالبات کے لئے رات میں ہاسٹل بند ہونے کا وقت گھٹاکر واپس 9 بجے کر دیا ہے۔ 3 مہینے پہلے طالبات کے زبردست مظاہرے کی وجہ سے  ہاسٹل کا وقت رات 8 بجے سے بڑھاکر 10:30 بجے کیا گیا تھا۔ اتناہی نہیں یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل بند ہونے کے وقت کو لےکر کسی بھی طرح کے  مظاہرہ پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے اس قدم کو لےکر طالبات میں غصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بالغ شہری کے طور پر ان کو اپنی زندگی سے جڑے فیصلہ لینے کا پورا حق ہے۔

ادھر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس اصول کے پیچھے ‘ گارجین   کی شکایت اور فکر ‘ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ گارجین   نے تحفظ کو لےکر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بچیاں رات 10:30 بجے تک کیمپس سے باہر رہیں۔ واضح  ہو کہ جامعہ میں لڑکوں کے لئے 7 ہاسٹل ہیں جن میں تقریباً 1200 اسٹوڈنٹس کے رہنے کی گنجائش ہے اور لڑکیوں کے لئے چار ہاسٹل ہیں جن میں  تقریباً 830 کی گنجائش ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے پر علمِ نفسیات سے بی اے کر رہی صائمہ کہتی ہیں، ‘ اس ملک کے ایک شہری کے طور پر ووٹ دینے کا ہمیں حق ہے، حکومت کے انتخاب  کا حق ہے۔ شادی کرنے اور بچے  پیدا کرنے کے لئے بھی ہمیں بالغ سمجھا جاتا ہے پر رات کو 9 بجے کے بعد جامعہ سے باہر نکلنے کے لئے ہمیں اہل  نہیں سمجھا جاتا۔ کیوں ہماری زندگی کا یہ فیصلہ گارجین   اور یونیورسٹی انتظامیہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ کیا تحفظ کا حوالہ دےکر ہمارے بنیادی حقوق چھیننا غلط نہیں ہے۔ ‘

صائمہ کہتی ہیں کہ تین مہینے پہلے یعنی 18 مارچ کی رات کو زبردست مظاہرہ کے بعد ہاسٹل بند ہونے کا وقت بڑھایا گیا تھا یونیورسٹی نے اس فیصلے کو اچانک سے واپس لےکر طالبات کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ہاسٹل بند ہونے کا ٹائم ٹیبل واپس گھٹائے جانے کو لےکر ناراض طالبات نے گزشتہ  4جولائی کو وائس چانسلر طلعت احمد کو خط لکھ‌کر ہاسٹل انچارج کے استعفیٰ  یا ان کو عہدے سے ہٹانے کی مانگ کی ہے۔

طالبات نے خط میں لکھا ہے، ‘ ہمیں ہاسٹل کے نئے اصولوں کی جانکاری اس سیشن کے لئے جاری ہوئے نئے پراسپیکٹس سے ملی جو کہ ان مانگوں کے خلاف ہیں جن کو انتظامیہ اسی سال 18 مارچ کو ہوئے  مظاہرہ میں پہلے ہی مان چکی تھی۔ ان مانگوں میں سب سے اہم ہاسٹل کا ٹائم ٹیبل یعنی کرفیو ٹائم بڑھانے کی بات تھی۔ اس سیشن سے اس کو واپس گھٹاکر رات 10:30 بجے سے نو بجے کر دیا گیا ہے۔ ‘ صائمہ کہتی ہیں کہ اگر کسی کے ماں باپ نے شکایت کی بھی ہے تو یونیورسٹی کو سمجھنا چاہیے  کہ ماں باپ کی فکر معقول ہے پر جب ہم ایک بالغ کے طور پر اپنی زندگی کا فیصلہ لینے کے لئے اہل  ہیں تو ہمارے بنیادی حقوق کو تحفظ کا حوالہ دےکر کیسے چھینا جا سکتا ہے۔

ماس کمیونیکیشن کی ایک طالبہ نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا، ‘ اس طرح کی کوئی بھی شکایت نہیں کی گئی ہے۔ انتظامیہ جھوٹ بول‌کر اس بات کی ذمہ داری گارجین  پر ڈال رہی ہے۔ ‘ انہوں نے کہا، ‘ انتظامیہ بھلےہی تحفظ کا حوالہ دےکر ہم سے ہماری آزادی چھین رہی ہو اور ہمیں اصولوں میں قید کر رہی ہو لیکن اصل میں وہ ہمارے تحفظ کی پرواہ نہیں کرتی۔ اگر کسی کو واپس آنے میں دیر ہو جائے تو وہ ہمارے داخلے پر روک کیسے لگا سکتے ہیں۔ اتنی رات میں 15 منٹ کی دیری پر اندر ہی آنے نہ دینا کیسا تحفظ ہے۔ ‘

طالبات میں یونیورسٹی انتظامیہ کے اس قدم کے خلاف بھی غصہ ہیں، جس کے تحت اب وہ ہاسٹل بند ہونے کا وقت  بڑھانے کو لےکر مظاہرہ بھی نہیں کر سکیں‌گی۔ طالبات نے ہاسٹل کے فارم پر دستخط کرنے سے انکار دیا ہے جس میں ان کو انتظامیہ کے خلاف کسی بھی طرح کے  مظاہرہ اور تحریک میں حصہ نہ لینے کی بات قبول کرنی  تھی۔ وائس چانسلر کو لکھے خط میں طالبات نے لکھا ہے، ‘ نئے پراسپیکٹس کے تحت ہمیں یہ فارم 14 جولائی تک جمع کرانے کو کہا گیا ہے۔ ہم ایسے کسی فارم پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہیں جس کے مطابق کسی بھی غیر جمہوری‎ اور من مانے قاعدےقانون کے خلاف ہمارے جمہوری‎ طریقے سے مخالفت کرنے کے بنیادی حق کو چھینا جائے۔‘


Share: